یہ میرے خواب
یہ میرے خواب نہیں تتلیاں ' صدف کہ جنہیں
چُرا کے کوئی کتابوں میں رکھ لے' جب چاہے
یہ میرے خواب ہیں'
دھاگا نہیں ہے رنگوں کا
کسی کی آنکھ کے ساون سے جو بکھر جائے
یہ میرے خواب نہیں کانچ کا گھروندا کہ جو
کسی کی لغزش پا کا نشانہ بن جائے
یہ میرے خواب
خزاں دیدہ برگ و بار نہیں
ہوائیں جن کو کہیں بھی اُڑا کے لے جائیں
یہ میرے خواب نہیں سنگ ریزے
قدموں تلے
کوئی بھی آئے تو ٹھوکر لگا کے چل نکلے
یہ میرے خواب ہیں....
ٹھوکر پہ جن کی ہر منزل
یہ میرے خواب ہراول پیادہ دستہ ہیں
نئی زمینوں کی دریافت پر جو نکلے ہیں
یہ استعارہ تسلسل سے امڈی لہروں کا
یہ میرے خواب
شعاعیں ہیں مہرِ تاباں کی
جو میرے حاملہ خوابوں کی کوکھ سے بھوٹیں
جبینِ خواب پہ کندہ ہیں نوری تعبیریں
ہزار چاہ کے بھی یہ تمام تحریریں
کوئی بھی
لوحِ ازل سے مٹا نہ پائے گا
( صدفـــــؔ مِرزا )
کوپن ہیگن
ڈنمارک
یہ میرے خواب نہیں تتلیاں ' صدف کہ جنہیں
چُرا کے کوئی کتابوں میں رکھ لے' جب چاہے
یہ میرے خواب ہیں'
دھاگا نہیں ہے رنگوں کا
کسی کی آنکھ کے ساون سے جو بکھر جائے
یہ میرے خواب نہیں کانچ کا گھروندا کہ جو
کسی کی لغزش پا کا نشانہ بن جائے
یہ میرے خواب
خزاں دیدہ برگ و بار نہیں
ہوائیں جن کو کہیں بھی اُڑا کے لے جائیں
یہ میرے خواب نہیں سنگ ریزے
قدموں تلے
کوئی بھی آئے تو ٹھوکر لگا کے چل نکلے
یہ میرے خواب ہیں....
ٹھوکر پہ جن کی ہر منزل
یہ میرے خواب ہراول پیادہ دستہ ہیں
نئی زمینوں کی دریافت پر جو نکلے ہیں
یہ استعارہ تسلسل سے امڈی لہروں کا
یہ میرے خواب
شعاعیں ہیں مہرِ تاباں کی
جو میرے حاملہ خوابوں کی کوکھ سے بھوٹیں
جبینِ خواب پہ کندہ ہیں نوری تعبیریں
ہزار چاہ کے بھی یہ تمام تحریریں
کوئی بھی
لوحِ ازل سے مٹا نہ پائے گا
( صدفـــــؔ مِرزا )
کوپن ہیگن
ڈنمارک

No comments:
Post a Comment