Thursday, 6 April 2017

اردو زباں صرف محبت کی زباں ہے۔Urdu zabaan siraf mahabbat ki zabaan



مجهے اس شریر کی دبی دبی مسکراہٹ سے اندازہ ہو رہا تها
کہ اس کے پیٹ میں ہنسی کے گولے چهوٹ رہے ہیں
لیکن ضبط کی کوشش میں ہے...
باہر آ کر گاڑی میں بیٹهتے ہی اس نے کهلکهلاہٹ کا آغاز کیا.
 بچپن سے اس کے بے ساختہ ہنسنے کا انداز یہی تها کہ انسان اسے دیکھ کر عمر بهر کے غم بهول جائے....
حس ظرافت ایسی کہ آدها جملہ سن کر باقی کا اندازہ لگانا اس کے لیے چنداں دشوار نہیں تها
اس کی نور بکھیرتی ہنسی کے لیے میں نے ایک غزل کہی تهی

تمہیں ہنستا خدا رکهے.. کہ جینے کی امنگ ہو تم
تمہارے ساته اس گهر کے در و دیوار ہنستے ہیں.

لیکن اس وقت مجهے اس کے ہنسنے سے کوفت ہو رہی تهی...

ہوا کیا ہے.....
کچھ پهوٹو بهی...

مجهے آپ پر رحم آ رہا تھا امی... جب سے پیدا ہوئے ہیں اپ نے ہماری سزا میں شامل رکها اردو بولنا
اردو پڑهنا...  لکهنا... تہزیب.. پاکستان میں یوں ہوتا ہے.. وہاں بچے یوں نہیں کرتے... وہاں بزرگوں کا احترام. ..

جب یہ سب سالگرہ پر انگریزی انداز میں گانے گا رہے تهے اور انگریزی بول رہے تهے.. آپ کی بات کا جواب بهی انگریزی میں آ رہا تها... آپ آنٹی ہو گئیں ایک دم...
کهی کهی کهی....
آنٹی....
اس نے پهر کچھ تصور کر کے ہنسنا شروع لر دیا
 تو مجهے وہ ساری شامیں یاد آ رہی تهیں جو ہمارا ٹی وی بند کر کے آپ اردو کتاب سامنے رکھ دیتی تهیں...

ہم کسی کے حاکم تو نہیں جو لوگوں پر اختیار رکهیں کہ یہ کہو .. وہ نہ کہو.. یوں کرو..  یوں نہ کرو. .
میں نے کچھ نالاں ہو کر کہا

یار امی
اس نے شریر آنکھوں کے گوشوں سے مجهے دیکھا
اپ مان کیوں نہیں لیتیں کہ آپ جو نقشہ کھینچ کر ہمیں طعنے دیتی تهیں.. وہ غلط تها...
پاکستان تو کلچر کا ملغوبہ ہے

اچها... اب میں نے برہم ہونے کا ہتهکنڈہ آزمایا
تو اچهی اردو سیکهنے سے آپ کو نقصان کیا پہنچا....
ٹوپی میں لگے پروں میں ایک اضافہ ہی ہوا نا...
ناشکر گزاری ہمارا المیہ ہے...

اسے پهر ہنسی آ گئی
امی آپ کوئی کانفرنس نہیں کر رہی
مان  لیں کہ آپ نے ہم پر بہت ظلم کیے ہیں

بات یہ ہے پتر جی......  وہ  مظالم یاد ہیں آپ کو
لیکن یہ یاد نہیں کہ آپ
ط... ظ...  اور پهر ف کو فوئیں کہا کرتے تهے
ج اور چ کو چیم اور حیم خیم کہنے پر تکرار کرتے تهے
سچ ہے ... دنیا ہے ہی نا شکری.. احسان فراموش وغیرہ وغیرہ

اس کی آنکهوں میں ہنسی کو فوارے چهوٹ رہے تهے لیکن مصنوعی سعادت مندی سے بولا
جی امی... اپ بالکل صحیح فرماتی ہیں جب دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو پهر طعنے باقی رہ جاتے ہیں




Nahein ...نہیں


نہیں
مسیحا کے قانوں کی پابند
فطری اصولوں سے پیہم کشاکش میں مصروف ،
اک تار سی ' تو نہیں۔۔۔۔
جس کے اک گال پر پوری طاقت سے دنیا طمانچہ لگائے
تو وہ وہ مسکرا کر جواباََ
تحمُّل کے آئینے کی کرچیوں کو اٹھائے ہوئے
اپنے رخسار کی سرخیوں کو چھپائے ہوئے
دوسرا گال آگے بڑھا دے؟
نہیں۔۔۔۔۔۔۔
قرن ہا قرن سے۔
خواہشوں اور خوابوں کے اک وَسطی پُل پر
خود اپنی خودی کو بھلائے ہوئے
خدا کا نہیں۔۔۔۔اس زمانے کے دستور کا بوجھ
کاندھوں پہ اپنے اٹھائے ہوئے
مَیں تعارف کا ہر اک حوالہ بھلائے ہوئے
مذمّت کے سارے مقفّل سے دروازوں پر
روز مصلوب ہوتی رہی !
میں کہ رشتوں کی نادیدہ زنجیر کی قید میں،
میں کہ ناکردہ جرموں کی تقصیرکی قید میں،
میں کہ عورت کے اس ازلی
گھر اور پناہوں کے خوابوں کی تعبیر کی قید میں
بِن پڑھے، سارے سمجھوتوں پر
د ست خط کر کے دیتی رہی !
ناروا اور جبراً لئے عہد و پیمان کو
لب سیئے
یوں ہی تائیدی مُہروں سے بیڑی بناتی رہی
مصلحت کے قفس میں
خود اپنے ہی ہاتھوں
سلاخوں کی گِنتی بڑھاتی رہی
میں ایثارو خدمت کے، قربانی کے، منتروں میں ہی الجھی رہی
آستینوں کے سانپوں کو خونِ جگر بھی پلاتی رہی
سماجوں، رواجوں کے ان نا خداؤں کے ہاتھوں سے معتوب ہوتی رہی
اور پھر جب کبھی ، چند گھڑیوں کی مہلت چرا کے
کبھی سوچنے کی جسارت بھی کی
ناخدا چیخ اٹھے، تلملائے روایات کے بُت سبھی
آ کے مجھ پر گڑیں
زہر آلود تیروں کی تیز انّیاں ۔ ۔ ۔ سَنسناتی ہوئی
میں کلاہوں کی ناموس، شملوں کے جاہ و حَشم،
اور قبیلے کی ،
میں، ناک اور آبرُو کی کی طرح
ایک مجبُور، مقہُور، محصور ' تنہا امیں
بے صدا اک صدا
بے گیہ اک زمیں
رسم کے ہر الاؤ میں زندہ ہی جلتی رہی
مسکرا کر بھی مغضوب ہوتی رہی
پَر نہیں۔۔۔۔
اب نہیں، ایک لمحہ نہیں ' ثانیہ بھر نہیں
اک جہنّم
کہ ہر سانس سینے کو بن کے کٹاری لگے
آگہی کا یہ بے قابو لاوا ۔۔۔۔
جسے صبر و برداشت کی ایک تڑخی زمیں سب سے بھاری لگے
اس سے پہلے
کہ جبر اور ظلم کا ظالم آتش فشاں
مجھ کو بھی راکھ کر دے۔۔۔
نہیں۔۔
سر کشی کی یہ معیوب،
جلتی روایت مجھی سے سہی
بس نہیں
اب بساطیں الٹنے کی بے باک، بدنام سی
یہ بغاوت مجھی سے سہی
سوچنے کی اذیّت مجھی سے سہی
بولنے کی یہ جراؑت مجھی سے سہی
کربلا کی زمیں میری قسمت سہی
میری راتوں کی تقدیر وَحشت سہی
میری تنہائی میری عقُوبت سہی
اب سرِ دار بھی دل کہے گا یہی
اب نہیں
اب نہیں
اب نہیں !!!
( صـــدفــــــؔ مـــرزا )


Aorat ki zindgi kaa maza ham se poochye... عورت کی زندگی ۔۔۔

چلتی ہے ساری عمر یہ رشتوں  کے کانچ پر
عورت کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے
صدف مرزا

بیاد خمار بارہ بنکوی

Chalti hai saari umr ye rishton ke kaanch par

Aorat ki zindgi kaa mazah ham se poochye

Sadaf mirza





یہ شعر یونانی اساطیر  سے لیا گیا ہے


نہایت  تاک کر اس نے چلایا تیر چٹکی سے
صدف اس کو خبر تھی یہ کہ ایڑی میری فانی ہے
صدف  مرزا
 Sadaf Mirza:

Nihaayat taak kar uss ne chalyaa teer chutki se
Sadaf uss ko khabar thii ye k airii meri faani hai

Ye mere khwaab....یہ میرے خواب۔۔۔ صدف مرزا

یہ میرے خواب


یہ میرے خواب نہیں تتلیاں ' صدف کہ جنہیں
چُرا کے کوئی کتابوں میں رکھ لے' جب چاہے
یہ میرے خواب ہیں'
دھاگا نہیں ہے رنگوں کا
کسی کی آنکھ کے ساون سے جو بکھر جائے
یہ میرے خواب نہیں کانچ کا گھروندا کہ جو
کسی کی لغزش پا کا نشانہ بن جائے
یہ میرے خواب
خزاں دیدہ برگ و بار نہیں
ہوائیں جن کو کہیں بھی اُڑا کے لے جائیں
یہ میرے خواب نہیں سنگ ریزے
قدموں تلے
کوئی بھی آئے تو ٹھوکر لگا کے چل نکلے
یہ میرے خواب ہیں....
ٹھوکر پہ جن کی ہر منزل
یہ میرے خواب ہراول پیادہ دستہ ہیں
نئی زمینوں کی دریافت پر جو نکلے ہیں
یہ استعارہ تسلسل سے امڈی لہروں کا
یہ میرے خواب
شعاعیں ہیں مہرِ تاباں کی
جو میرے حاملہ خوابوں کی کوکھ سے بھوٹیں
جبینِ خواب پہ کندہ ہیں نوری تعبیریں
ہزار چاہ کے بھی یہ تمام تحریریں
کوئی بھی
لوحِ ازل سے مٹا نہ پائے گا

( صدفـــــؔ مِرزا )
کوپن ہیگن
ڈنمارک 

زبان یار من ترکی۔۔۔۔۔۔ A complete history of Danish Language and Literature

ڈینش شعرو ادب کی مکمل تاریخ


صدف پارے



تہمت  کا  تو  میں  ویسے  ہی  آسان  ہدف  ہوں
 میں ٹوٹ کے بهی موتی لٹاؤں گی صدف ہوں.

صدف مرزا

Tuhmat kaa toa main wese hi aasaan hadaf hoon
Main t