نہیں
مسیحا کے قانوں کی پابند
فطری اصولوں سے پیہم کشاکش میں مصروف ،
اک تار سی ' تو نہیں۔۔۔۔
جس کے اک گال پر پوری طاقت سے دنیا طمانچہ لگائے
تو وہ وہ مسکرا کر جواباََ
تحمُّل کے آئینے کی کرچیوں کو اٹھائے ہوئے
اپنے رخسار کی سرخیوں کو چھپائے ہوئے
دوسرا گال آگے بڑھا دے؟
نہیں۔۔۔۔۔۔۔
قرن ہا قرن سے۔
خواہشوں اور خوابوں کے اک وَسطی پُل پر
خود اپنی خودی کو بھلائے ہوئے
خدا کا نہیں۔۔۔۔اس زمانے کے دستور کا بوجھ
کاندھوں پہ اپنے اٹھائے ہوئے
مَیں تعارف کا ہر اک حوالہ بھلائے ہوئے
مذمّت کے سارے مقفّل سے دروازوں پر
روز مصلوب ہوتی رہی !
میں کہ رشتوں کی نادیدہ زنجیر کی قید میں،
میں کہ ناکردہ جرموں کی تقصیرکی قید میں،
میں کہ عورت کے اس ازلی
گھر اور پناہوں کے خوابوں کی تعبیر کی قید میں
بِن پڑھے، سارے سمجھوتوں پر
د ست خط کر کے دیتی رہی !
ناروا اور جبراً لئے عہد و پیمان کو
لب سیئے
یوں ہی تائیدی مُہروں سے بیڑی بناتی رہی
مصلحت کے قفس میں
خود اپنے ہی ہاتھوں
سلاخوں کی گِنتی بڑھاتی رہی
میں ایثارو خدمت کے، قربانی کے، منتروں میں ہی الجھی رہی
آستینوں کے سانپوں کو خونِ جگر بھی پلاتی رہی
سماجوں، رواجوں کے ان نا خداؤں کے ہاتھوں سے معتوب ہوتی رہی
اور پھر جب کبھی ، چند گھڑیوں کی مہلت چرا کے
کبھی سوچنے کی جسارت بھی کی
ناخدا چیخ اٹھے، تلملائے روایات کے بُت سبھی
آ کے مجھ پر گڑیں
زہر آلود تیروں کی تیز انّیاں ۔ ۔ ۔ سَنسناتی ہوئی
میں کلاہوں کی ناموس، شملوں کے جاہ و حَشم،
اور قبیلے کی ،
میں، ناک اور آبرُو کی کی طرح
ایک مجبُور، مقہُور، محصور ' تنہا امیں
بے صدا اک صدا
بے گیہ اک زمیں
رسم کے ہر الاؤ میں زندہ ہی جلتی رہی
مسکرا کر بھی مغضوب ہوتی رہی
پَر نہیں۔۔۔۔
اب نہیں، ایک لمحہ نہیں ' ثانیہ بھر نہیں
اک جہنّم
کہ ہر سانس سینے کو بن کے کٹاری لگے
آگہی کا یہ بے قابو لاوا ۔۔۔۔
جسے صبر و برداشت کی ایک تڑخی زمیں سب سے بھاری لگے
اس سے پہلے
کہ جبر اور ظلم کا ظالم آتش فشاں
مجھ کو بھی راکھ کر دے۔۔۔
نہیں۔۔
سر کشی کی یہ معیوب،
جلتی روایت مجھی سے سہی
بس نہیں
اب بساطیں الٹنے کی بے باک، بدنام سی
یہ بغاوت مجھی سے سہی
سوچنے کی اذیّت مجھی سے سہی
بولنے کی یہ جراؑت مجھی سے سہی
کربلا کی زمیں میری قسمت سہی
میری راتوں کی تقدیر وَحشت سہی
میری تنہائی میری عقُوبت سہی
اب سرِ دار بھی دل کہے گا یہی
اب نہیں
اب نہیں
اب نہیں !!!
( صـــدفــــــؔ مـــرزا )

No comments:
Post a Comment